Tuesday, December 6, 2022

2nd year Physics best notes

2nd year Physics best notes

F.Sc. Physics (2
nd Year) COMPLETE BOOK 
NOTES

Contents :

Chapter # 12: Electrostatics
Chapter # 13: Current Electricity
Chapter # 14: Electromagnetism
Chapter # 15: Electromagnetic Induction
Chapter # 16: Alternating Current
Chapter # 17: Physics of Solids
Chapter # 18: Electronics
Chapter # 19: Dawn of Modern Physics
Chapter # 20: Atomic Spectra
Chapter # 21: Nuclear Physics


Download notes from the given below link
   

               Download


if you face any problem to download books/ notes contact us on our Facebook page👇


https://www.facebook.com/PhysicsFzks?mibextid=ZbWKwL


Also Subscribe our You _Tube👇👇channel 


https://www.youtube.com/channel/UCibzq-IJdvdLPxNpkbVcAxw

 

And also u can approach us on Instagram 👇🏻

https://www.instagram.com/p/ClYhlyoIH7j/?igshid=YmMyMTA2M2Y=



Thanks.
Remembering me in your precious prayers.
May God bless you.


 For information 👇🏻👇🏻



حیرت انگیز کائناتی زرے"نیوٹرینو"
۔۔۔۔۔۔۔۔
 آپ جانتے ہیں  ایسے مادی ذروں
کے بارے میں جو ہر لمحہ کھربوں کی تعداد میں ہمارے جسموں سے گزر رہے اور ہم بےخبر ہیں۔۔۔۔۔؟؟؟
ہوئی ناں حیرت؟ میں بھی ایسے حیران ہوا
میں نے تو جب سے کائنات کو جاننا شروع کیا ہے حیرتیں میرے شانہ بشانہ چل رہی ہیں
اور میں تجسس اور سنسنی کے دامن تھامے گم صم ساچلا جارہا ہوں۔۔۔
شاید ہر ایک کائناتی نے مجھے ششدر کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
یہ کائناتی ذرہ "نیوٹرینو" ہے
جو ہمارے جسم سے ہر سیکنڈ اربوں کھربوں کی تعداد میں گزر رہا ہے اور ہمیں درد، تکلیف یا ہلکی ہلکی سرسراہٹ تک محسوس نہیں ہو رہی۔۔۔
یہ کیسے ممکن ہے۔۔؟؟؟
جناب!!! اس کائنات میں بہت کچھ ایسا ممکن ہے جو ہمارے تصورات میں بھی نہیں جب تک کہ اس کے بارے ہمیں کچھ معلوم نہ ہوجائے۔۔۔
نیوٹرینو بھی کچھ ایسی ہی پراسرار چیز ہے۔۔۔
یہ مادی ذروں میں سب سے ہلکا اور کائنات میں وافر مقدار میں پایا جانے والا ذرہ ہے۔۔ اتنا ہلکا کہ اسکی کمیت تقریباً صفر(Non zero) ہے۔۔
یہ ایٹم سے بھی ہلکا ہے بلکہ اس کے مقابلہ میں ایٹم تو بہت بھاری ہے یہ تو ایٹم کے ذیلی ذرات نیوٹران، پروٹون اور الیکٹرون سے بھی ہلکا ہے۔۔۔ یہ ایک الیکٹرون سے  کمیت میں 10لاکھ گنا کم ہوتا ہے۔۔
یعنی الیکٹرون ایک بڑی چٹان ہے تو نیوٹرینو ایک چھوٹی سی کنکری۔۔
یہ اتنا ہلکا ہے کہ بہت عرصہ تک ماہرین اسے فوٹون کی طرح ایک غیر مادی ذرہ سمجھتے رہے۔۔
اب بھی بہت سے ماہرین کے نزدیک اس کی مادی حیثیت مشکوک ہے
الیکٹرو میگنیٹک فورس اور سٹرانگ فورس اس پر کوئی اثر نہیں رکھتیں اسی وجہ سے یہ مادی اشیاء سے انٹریکٹ نہیں ہوتا۔۔ ہمارے اجسام تو بہت معمولی ہیں۔۔۔ یہ تو 40ہزار کلومیٹر کا قطر رکھنے والی زمین سے بھی نہایت آسانی سے گزرجاتے ہیں۔۔۔
اور زمین بھی کچھ نہیں ان ذرات کے آگے اگر زمین سے دگنی موٹائی رکھنے والی کوئی سیسہ پلائی دیوار بھی تعمیر کر دی جائے تو بھی یہ انہیں روکنے سے قاصر ہوگی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  
یہ ستاروں/ جوہری بجلی گھروں (Nuclear Reactors) میں ہونے والے تعاملات (Reactions) کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔۔
زمین کے دن والے حصہ پر  نیوٹرینو کی شدید ترین غیر مرئی بارش ہوتی ہے۔۔۔
اندازاً ہر سیکنڈ زمین کے ہر  ایک مربع سینٹی میٹر پر 65ارب نیوٹرینو ٹکراتے ہیں اور بہت ہی کم زمین میں جذب ہوتے ہیں اکثر زمین کی سطح کو چیرتے ہوئے دوسری طرف رات والے حصے سے نکلتے ہوئے خلاؤں میں گم ہوتے رہتے ہیں۔۔۔سورج سے خارج شدہ توانائی کا تقریباً دو فیصد حصہ نیوٹرینو پر مشتمل ہوتا ہے۔۔۔
(دن اور رات کے وقت زمین پر نیوٹرینو کی تعداد تقریباً ایک سی ہی ہوتی ہے فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ رات والے حصے سے یہ زیادہ تر زمین سے خارج ہوکر خلاؤں میں نکل رہے ہوتے ہیں اور دن والے حصے پر یہ سورج سے نکل کر زمین پر برس رہے ہوتے ہیں...)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیوٹرینو الیکٹران سے ملتا جلتا ذرہ ہے مگر اس پر الیکٹران (جو آپکی اس ڈیوائس کو پاور دے رہا ہے جس پر آپ میرا مضمون پڑھ رہے ہیں)منفی چارج کے حامل ہوتے ہیں۔۔۔ جبکہ نیوٹرینو پر کوئی چارج نہیں ہوتا۔۔ 
اسی وجہ سے برقی مقناطیسی قوت اس پر اثر انداز نہیں ہوتی۔۔۔
نیوٹرینو لیپٹون کے خاندان سے ہے اسلئے اس پر gluons بھی کوئی اثر نہیں ڈالتے جو سٹرانگ انٹریکشن کا سبب بنتے ہیں۔۔۔
الیکٹران بھی لیپٹون کے خاندان سے ہے مگر اس پر منفی چارج ہوتا ہے۔۔۔
نیوٹرینو پر صرف کمزور انٹریکشن اور کشش ثقل موثر ہوتی ہے اور وہ بھی نہ ہونے کے برابر۔۔۔
۔۔۔
ان کی دریافت سے بھی پہلے 1930 میں گینگ پاول نے  اس ذرہ کی موجودگی کا تصور پیش کیا تھا۔۔۔ جو Beta decay میں پروٹان اور الیکٹران کے ساتھ وجود میں آتا ہے۔۔۔۔بیٹا تابکاری میں اس زرے کے بغیر مومینٹم، توانائی اور spin کے بقا کی وضاحت کرنا ممکن نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر 1956میں اسے حقیقت میں دریافت کر لیا گیا۔۔ اس کی دریافت کرنیوالے سائنسدانوں کو 40 سال بعد 1995 میں نوبل انعام دیا گیا۔۔۔۔
نیوٹرینو چونکہ مادے میں بہت ہی کم جذب ہوتے ہیں اسلئے انکا مطالعہ کرنا اور ان کی خاصیت معلوم کرنا بہت دشوار ہوتا ہے۔۔۔
ماہرین نے ان کیلئے بڑے بڑے ڈیٹیکٹر نصب کیے ہوئے ہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔
یہ چونکہ تقریباً صفر کمیت کے حامل ہوتے ہیں
اسلئے ان کی رفتار بھی روشنی کی رفتار سے
تھوڑی ہی کم ہوتی ہے۔
ستاروں کے مرکزوں سے فوٹون کی نسبت یہ بہت تیزی سے نکلتے ہوئے ستاروں سے باہر آجاتے ہیں اس کے برعکس ایک فوٹون کو ستارے کے مرکز سے نکلنے کیلئے پلازمہ اور گیسوں کے گھنے غیر شفاف غلافوں کو پار کرنا پڑتا ہے۔۔۔
ایک فوٹون کو ستارے کی سطح تک جاتے جاتے  ہزاروں سے لاکھوں سال لگ جاتے ہیں اور نیوٹرینو چونکہ مادے سے آسانی سے گزرتے ہیں اس لیے وہ کچھ وقت میں ہی ستارے کے مرکز سے سطح پر پہنچ جاتے ہیں۔۔۔۔
نیوٹرینو کا نام اینریکو فرمی نے تجویز کیا تھا جو کہ" لٹل نیوٹرل ون" کیلئے استعمال کیا جانے والا اطالوی زبان کا لفظ ہے۔۔۔
اسے v یا nu کی علامتوں سے ظاہر کیا جاتا ہے۔۔۔
تمام نیوٹرینو ایک جیسے نہیں ہوتے بلکہ فلیور، ماسز  اور انرجیز کے لحاظ سےمختلف اقسام میں ہوتے ہیں۔۔۔
مگر سبھی نیوٹرینو کی spin بائیں طرف ہوتی ہے

کچھ تو اینٹی میٹر ورژن میں بھی دستیاب ہوئے ہیں۔۔۔ جنہیں اینٹی نیوٹرینو کہتے ہیں جو نیوٹرینو کے الٹ یعنی دائیں طرف spin کرتے ہیں۔۔۔۔
یہ کائناتی ذرہ فی الحال زیادہ تر اسرار کے گھنے غلافوں میں چھپا ہوا ہے اس کی کتنی اقسام ہوں گی کچھ کہنا مشکل ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیوٹرینو پارٹیکل فزکس اور ایسٹرو فزکس کے شعبوں میں ایک خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ ان میں بہت زیادہ دخول (Penetration) کی خصوصیات ہیں اور یہ ہمیں نیوکلیون(Nucleon) کی اندرونی ساخت، سورج کا اندرونی پوشیدہ خطہ جہاں شمسی توانائی پیدا ہوتی ہے، کی تحقیقات کرنے کا منفرد امکان فراہم کرتے ہیں۔۔۔۔۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال
نیوٹرینو کا سراغ کیسے لگایا جاتا ہے؟
جواب؛ (انیس احمد جستجو گروپ کی جانب سے)
" نیوٹرینو کو detect کرنا انتہائی مشکل کام ہیے ۔۔۔
 اس کے لیے جو detector بنایا جاتا ہیے اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں ایٹم کے کچھ ذیلی ذرات (sub particles) کو سمجھنا ہو گا ۔۔
پروٹون اور نیوٹرون کوارک ( Quark) سے بنے ہوتے ہیں ۔۔۔ Quark تین رنگوں سے define ہوتے ہیں لال، ہرا اور نیلا ۔۔۔ ان سب کی سات سات قسمیں ہیں جو کہ یہ ہیں۔ان کو کوارک کے فلیور ( Flavour) کہتے ییں
Top , Bottom , Up, Down, Strange , Charmed, Doc 
پروٹون دو up اور ایک down کوارک سے بنتا ہیے 
نیوٹرون ایک up اور دو down کوارک سے بنتا ہیے ۔۔
پروٹون اور نیوٹرون دونوں سے مل کر ہی مادے کا نیوکلیس بنتا ہیے ۔۔۔
اب آئیں واپس کہ نیوٹرینو کو کیسے detect کریں۔۔۔ نیوٹرینو اتنا چھوٹا ہوتا ہیے کہ اس کا بہت زیادہ چانس  مادے میں سے بغیر کسی پارٹیکل سے ٹکرائے گزر جانے کا ہوتا ہیے ۔۔۔ لیکن کھربوں میں سے ایک کیس میں وہ مادے میں موجود کسی   نیوکلیس میں موجود کسی بھی کوارک سے بالکل سیدھا ٹکرا سکتا ہیے ۔۔اور اس ٹکرانے کے نتیجے میں یہ کسی بھی کوارک کے اندر جذب ہو کر اس کا فلیور تبدیل کر سکتا ہیے ۔۔۔ جیسے کہ ایک ڈاؤن کوارک، ایک اپ کوارک میں تبدیل ہو جائے گا ۔۔ یعنی دوسرے لفظوں میں مادے کا نیوٹرون ایک پروٹون میں تبدیل ہو جائے گا کیونکہ اب دو اپ اور ایک ڈاؤن کوارک ہو گئیے ۔۔۔یعنی اب پروٹون ایک بڑھ گیا تو عنصر بدل گیا ۔۔ اگر یہ آکسیجن 16 کا ایٹم تھا تو اب فلورین 16 کا ایٹم ہو گیا ۔۔۔ اور اس کی وجہ سے ایک خاص wave length کا photon نکلتا ہیے جسے آسانی سے detect کر لیا جاتا ہیے 
لیکن یہ سب کچھ زمین کے بہت اندر کسی کان میں کیا جاتا ہیے تا کہ cosmic شعاعیں اثر انداز نہ ہو سکیں ۔۔۔۔

اس طریقے سے پتہ چلتا ہیے کہ نیوٹرینو موجود ہے۔۔۔۔۔۔۔ 



No comments:

Post a Comment

Clssical mechanics brilliant notes

Clssical mechanics brilliant notes Contents 1 Elementary Mechanics 1 1.1 Newtonian Mechanics . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . ....